US Evacuation and recent attacks

پشاور ایئر پورٹ پر حملے میں ذلت آمیز ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے تمام مذہبی اور اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بے گناہ پولیو ورکرز کے قتل عام کی جو مہم شروع کی ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ اس مجرمانہ مہم کا پس منظر کیا ہے؟ کیا حملہ آور یہ چاہتے ہیں کہ ہماری اگلی نسل میں پولیو جیسی خطرناک اور تباہ کن بیماری کے اثرات باقی رہیں یا اس پر بھی وہ کچھ مذہبی تحفظات رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے جن لوگوں نے خود کو عقل کل سمجھ کر مذہب کو بھی اپنی ذاتی ملکیت بنا لیا ہے ان کے بارے میں کچھ بھی کہا جا سکتا ہے لیکن دنیا کا کوئی مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ آپ دنیا میں آنے والے معصوم بچوں کی زندگیوں کے لیے بھی خطرات پیدا کر دیں۔
پشاور ایئر پورٹ پر حملے کے حوالے سے خیبر پختوانخواہ کے سینئر وزیر بشیر بلور کا یہ بیان محل نظر ہے کہ حملہ آوروں نے یہ حملہ فوج کی اصطلاح میں ’’ آل آؤٹ اٹیک‘‘ کی طرح کیا تھا۔ جس کو مختلف مراحل میں تقسیم کر کے یہ حکمت عملی اپنائی گئی تھی کہ سب سے پہلے ایک گروپ پشاور ایئر بیس پر کنٹرول حاصل کرے گا۔ جس کے ساتھ ہی دوسرا گروپ ٹی وی سٹیشن پر قبضہ کر لے گا جس کے بعد چھپے ہوئے حملہ آور مختلف اطراف سے حملہ کرتے ہوئے شہر میں داخل ہو جاتے۔ حملہ آوروں کی تعداد سینکڑوں میں بھی ہو سکتی تھی اور جو دہشت گرد اس حملے کے اگلے روز مارے گئے تھے وہ بھی انہی حملہ آوروں کی باقیات تھے۔ گو کہ معمول کے مطابق اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر اس مرتبہ کچھ نئے انکشافات بھی ہوئے ہیں۔ مرنے والے دہشت گردوں کی پشت پر کھدے ٹیٹوز کی شیطانی شبیہہ اور اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کا تعلق آذربائیجان اور داغستان سے ہے۔ اطلاعات کے مطابق جن دہشت گردوں کی حملے کے اگلے روز ایک زیر تعمیر مکان میں موجودگی کی اطلاع پولیس کو شہریوں نے دی تھی ان پر بھی شہریوں کو اس لیے شک ہوا کہ وہ شکل سے تو پٹھان لگتے تھے لیکن ایسی اجنبی زبان میں باتیں کر رہے تھے جو اس سے پہلے کسی نے نہیں سنی تھی۔ ایک چینل کی ٹیم جو اطلاع ملنے پر جائے وقوعہ کی طرف جا رہی تھی وہ بھی ان دہشت گردوں کے نرغے میں آگئی اور بمشکل جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔
سکیورٹی فورسز نے جرأت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے عزائم تو ناکام بنا دیے اور پشاور ایئر پورٹ کو سترہ گھنٹے بعد آپریشنل کر دیا لیکن تب سے اب تک خیبر پختوانخواہ میں دہشت گردوں نے ادھم مچا رکھا ہے اور تقریباً ہر روز کوئی نہ کوئی نئی واردات کررہے ہیں۔ جس میں راہ چلتے لوگوں پر دستی بم پھینکنا، پولیو ورکرز کا قتل جیسے گھناؤنے واقعات بھی شامل ہیں۔
ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے یہاں غیر ملکی دہشت گردوں کی نئی کھیپ آگئی ہے جسے دوسرے ممالک میں تربیت دے کر دہشت گردی کے لیے پاکستان میں لانچ کیا گیا ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ الزام دنیا پاکستان پر لگاتی ہے کہ یہاں سے دہشت گردی دنیا میں پھیلائی جا رہی ہے جبکہ زمینی سچائی یہ ہے کہ ساری دنیا کے دہشت گردوں نے مل کر پاکستان پر حملہ کر دیا ہے۔ یہ دہشت گرد کہاں سے سفر کرتے ہیں، کہاں پہنچتے ہیں اور کیسے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک سے آنے والا دہشت گرد براہ راست افغانستان میں داخل ہوتا ہے آج بھی افغانستان ان کے لیے محفوظ ترین پناہ گاہ ہے۔ جہاں ان کا استقبال کرنے کے بعد ان کی تربیت مکمل کر کے انہیں اسلحہ، گولہ بارود سے لیس کر کے پاکستان میں دھکیلا جاتا ہے۔ حیرت ہے افغانستان جہاں امریکہ نیٹو اور ایساف کی فوجیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اکٹھی کی گئی ہیں وہاں دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں۔ اس سلسلے کی اہم مثال مولوی فضل اللہ کی ہے۔
مولوی فضل اللہ کسی نہ کسی طرح سوات سے جان بچا کر نکلا تو اسے بھی مشرقی افغانستان (کنٹر) میں پناہ ملی۔ جہاں اسے محفوظ ٹھکانہ، عیش و آرام، اور ہر طرح کا تحفظ حاصل ہے۔ ملا فضل اللہ کی موجودگی کے حوالے سے پاکستان کئی مرتبہ اپنے تحفظات سے قابض افواج کو آگاہ کر چکا ہے۔ افغان حکومت کوباقاعدہ سفارتی سطح پر شکایت کی جا چکی ہے اور اس مرکز سے پاکستان پر حملے معمول بن چکے ہیں لیکن امریکہ، افغانستان، نیٹو نے اس ضمن میں پاکستان سے معذرت کر لی ہے۔ اندر کی بات یہ ہے کہ امریکن مولانا حقانی گروپ کے خلاف پاکستان آرمی کا ایکشن چاہتے ہیں جبکہ حقانی گروپ نے کبھی پاکستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کی نہ پاکستانی سکیورٹی کے لیے مسائل کھڑے کیے ہیں اور نہ ہی ان کا پاکستان میں کوئی ٹھکانہ ہے۔ وہ افغان شہری ہیں اور طالبان کے ساتھ مل کر افغانستان سے کارروائیاں کرتے ہیں۔ البتہ کچھ افغانوں کے بیوی بچے ضرور وزیرستان میں موجود ہیں جن کے خلاف کارروائی کا کوئی جواز نہیں بنتا لیکن امریکنوں نے پاکستان کو اس ’’گستاخی‘‘ کی سزا دینے کے لیے ملا فضل اللہ کی سرپرستی شروع کر دی ہے اور باور کیا جاتا ہے کہ جو غیر ملکی دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوتے ہیں وہ ان ہی مراکز پر تربیت اور اسلحہ حاصل کرنے کے بعد یہاں آتے ہیں اور انہیں اگر مکمل پشت پناہی نہیں تو کم از کم امریکنوں کی ’’نظر انداز کر دینے کی‘‘ پالیسی کا سامنا رہتا ہے۔ یہ لوگ جس راستے سے گزر کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں جس راستے سے واپس جاتے ہیں اس پر نیٹو اور امریکہ کا کنٹرول ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے امریکن افغانستان سے رخصتی سے پہلے اس خطے کی جغرافیائی اور زمینی سچائیوں کو بدلنے پر تلے ہیں۔ کیونکہ سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ افغانستان کے جہاں جہاد یا فساد اسے کوئی بھی نام دیا جائے، ہو رہا ہے اس میں پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکنوں کی براہ راست طالبان سے گفت و شنید اور سودے بازیاں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ اگر وہ پاکستان کو اس گفتگو کا حصہ نہیں بناتے۔ جہاں تک دہشت گردی کے دباؤ کا تعلق ہے تو یہ حربے اب پاکستان پر آزمائے نہیں جا سکتے کیونکہ عوام کو بھی برے بھلے کی تمیز ہونے لگی ہے۔
read more →

The illiterate one's

چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف کے بیانات کی گونج ابھی فضاؤں میں ہے لیکن یار لوگوں نے اس پر جو دھما چوکڑی مچائی ہے اسے دیکھ کر گمان گزرتا ہے کہ ہمارے شعبہ صحافت میں بعض ایسی کالی بھیڑیں آگئی ہیں جن کا ایک مخصوص ایجنڈہ ہے اور وہ حالات و واقعات کو خاطر میں لائے بغیر اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ حیرت ہے ملک کے بعض انتہائی اہم اخبارات نے دونوں محترم شخصیات کے بیانات کی سرخیاں ایک دوسرے کے آمنے سامنے لگا کر گویا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ عدلیہ اور فوج میں ٹکراؤ ہو گیا ہے یا پھر جنرل کیانی اور جسٹس افتخار چوہدری نے دراصل ایک دوسرے کو مخاطب کر کے یہ باتیں کی ہیں۔ جبکہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔
امر واقعہ یہ ہے کہ چیف جسٹس صاحب اپنا خطاب پہلے فرما چکے تھے جس میں قطعاً پاکستان آرمی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی اور محترم چیف جسٹس نے تیزی سے بدلتے عالمی منظر نامے کے حوالے سے کہا ہے کہ اب طاقت ور کہلانے کے لیے آپ کی مضبوط اکانومی ناگزیر ہے حیرت ہے ہمارے ’’باخبر میڈیا‘‘ پر جس نے بات کا بتنگڑ بنا کر رکھ دیا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
میں اپنے گزشتہ کالموں میں لکھتا آرہا ہوں کہ ہمارے بعض اینکرز ایسی حرکتیں کر رہے ہیں جنہیں ’’مشکوک‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔ بات بے بات فوج کو کسی بھی بحث میں گھسیٹنا۔ بار بار بغیر کسی ریفرنس کے یہ کہتے رہنا کہ ایجنسیاں بندے اٹھا کر لے جاتی ہیں اور اس مفروضے کو اپنے معزز مہمانوں کے منہ میں ڈال کر ان سے اپنے ایجنڈے کے مطابق باتیں نکلوانا تو ایک معمول سا بن کر رہ گیا ہے۔
جب بعض عاقبت اندیش مہمانوں نے ان مخصوص اینکرز کی توجہ اس طرف دلائی کہ وہ معاملات کو اس طرح ’’جرنلائز‘‘ نہ کریں اور کسی جرنیل کی کرپشن کو اس کے ادارے کی اہانت کا ذریعہ نہ بنائیں تو انہوں نے ایک نیا فقرہ تراش لیا جو کچھ اس طرح تھا کہ ہم جوانوں کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں لیکن جرنیل حضرات فلاں فلاں معاملات میں ملوث اور ریٹائرمنٹ پر کروڑ پتی قسم کی کی چیز بنے ہوئے ہیں وغیرہ وغیرہ کوئی عقل کا اندھا بھی یہ بات سمجھ سکتا تھا کہ یہ فوج میں انتشار پیدا کرنے کی بھونڈی کوشش ہے۔
اس ضمن میں کل ہی ایک پروگرام میں شیخ رشید نے محمد مالک کو یاد دلایا کہ جب اس نے شہید فوجیوں پر پروگرام کیا تو ایک ماں کو جس کا بیٹا شہید ہو چکا تھا بہت ڈرانے دھمکانے اور اس ’’جنگ‘‘ کو ایک فضول سی چیز ثابت کرنے کے بعد بھی دریافت کیا کہ کیا وہ اپنے دوسرے بیٹے کو فوج میں بھیجنا پسند کرے گی؟ اور اس ماں کا جواب تھا کہ نہ صرف دوسرے اس کے جتنے بیٹے ہیں سب وطن کے لیے شہید ہو جائیں تو بھی وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔۔۔ حیرت ہے اس بات پر شرمندہ ہونے کے بجائے محمد مالک نے کہا ’’ ہاں جی! مرنے کے بعد اسے چند ہزار روپے ایک گھی کا کنستر اور چینی، آٹا ملا تھا جبکہ ایک جرنیل اگر۔۔۔‘‘
یہ ہے وہ ماینڈ سیٹ جس کا رونا ہم روتے ہیں۔ یہ لوگ جو خود کو لبرل اور لا مذہب کہتے ہیں انہیں اس جذبے کی شدت کا اندازہ ہی نہیں جو سپاہیوں کی بوڑھی ماؤں کو وطن کے لیے کچھ کر گزرنے پر مجبور کرتا ہے انہیں یہ کون بتائے کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں شہید ہونے والے جوان اور افسر اپنی تنخواہوں اور مراعات کے تناسب سے شہید نہیں ہوتے۔
ایئر مارشل اصغر خان جن کے کریڈٹ پر پاکستان ایئر فورس کے لیے کوئی کارنامہ نہیں خیال رہے کہ 1965ء کی سترہ روزہ جنگ میں ایئر مارشل نور خان مرحوم نے ایئر فورس کی کمانڈ کی اور اس نے محیر العقول کارنامے انجام دیے۔ اگر دوران جنگ اصغر خان صاحب کی کمانڈ ہوتی تو وہ ’’لاء فل اور ان لاء فل‘‘ کے چکر میں پاکستان ایئر فورس کا کباڑہ کروا دیتے۔ 6ستمبر سے پہلے غالباً مونا باؤ سیکٹر میں آپ کو مشن دیا گیا جس پرموصوف نے اپنے پرانے دوست بھارتی ایئر مارشل کو پیغام بھیجا کہ ’’ نہ میں حملہ کروں گا نہ تم کرو۔ فوج والوں کو آپس میں لڑنے مرنے دو۔‘‘
حیرت ہے کہ پاکستان انٹیلی جنس نے یہ پیغام پکڑنے کے بعد ان کا کورٹ مارشل کیوں نہ کروایا؟ الٹا وہ اسے بھی اپنا کارنامہ بتاتے ہیں۔ پیر پگاڑہ کے قافلے پر بمباری نہ کرنے کا ان کے فیصلہ کا کوئی دستاویزی ثبوت کہیں موجود نہیں، اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ اپنے سی۔او کی حکم عدولی کریں اور موجیں بھی اڑائیں۔ اگر وہ ایسے ہی ’’لاء فل‘‘ تھے تو رائل انڈین ایئر فورس کے بجائے سبھاش چندر بوس کی آزادی ہند فوج میں کیوں نہ بھرتی ہو گئے؟ بھولے بادشاہوں کی قوم ہے۔ 1965ء کی ساری جنگ نور خان نے لڑی اور ہیرو موصوف بن گئے۔ پہلے جسٹس پارٹی بنائی، پھر تحریک استقلال اور آج کل مقدمات کا شوق فرما رہے ہیں۔ کل کی بات ہے جب اصغر خان سب سے پہلے تو بھٹو مرحوم کی مدد کے لیے میدان میں نکلے اور ایوب خان کے خلاف تحریک چلائی پھر بھٹو کے برسر اقتدار آنے پر غصہ کر کے اپوزیشن میں آگئے۔ ابھی لوگ اتنے بھی بوڑھے نہیں ہوئے کہ انہیں یاد نہ رہا ہو کہ اصغر خان صاحب بھٹو مرحوم کے لیے ’’کوہالہ کے پل پر پھانسی‘‘ کے نعرے لگایا کرتے تھے۔ عین اس مرحلے پر جب اسلامی جمہوری اتحاد جس کے وہ بھی ممبر تھے اور پیپلز پارٹی کے درمیان دوبارہ الیکشن کے مذاکرات کامیاب ہو رہے تھے کہ موصوف استعفیٰ دے کر الگ ہو گئے اور جنرل ضیاء کو کھلا خط لکھ کر مارشل لاء لگانے کی دعوت دی جس کی اب وہ عجیب و غریب تاویلیں پیش کر رہے ہیں۔
فوج میں احکامات پر مکمل طاقت سے عمل کی تربیت دی جاتی ہے۔ فلسفہ نہیں پڑھایا جاتا۔ اگر اصغر خان صاحب کی ’’لاء فل کمانڈ‘‘ کی تھیوری مان لی جائے اور ایئر فورس کا کوئی پائلٹ سوات میں چھپے دہشت گردوں پر یہ کہہ کر بمباری سے انکار کر دے اور کہ یہ ’’ لاء فل کمانڈ‘‘ نہیں تو اصغر خان صاحب کے حساب سے اسے کس کھاتے میں رکھا جائے گا؟ کسی فوجی کمانڈر کے کسی بھی حکم یا فیصلے کے غلط یا صحیح ہونے کا فیصلہ بھی فوج کی اعلیٰ قیادت ہی کرتی ہے۔ دنیا بھر میں یہی اصول کافرما ہے۔ بمشکل آدھا دن ’’بقائمی ہوش و حواس‘‘ رہنے والے کالم نگار نہیں کرتے۔ پاکستان میں پریس امریکہ سے زیادہ آزاد نہیں ہوا۔ وہاں کتنے چینلز پر روزانہ امریکی فوج کی ویت نام عراق اور افغانستان میں ناکامی کا ماتم کیا جاتا ہے؟
فوج میں ’’چیک اینڈ بیلنس‘‘ کا نظام بہت سخت ہے۔ سپاہی کے جذبات کمانڈر اور چیف کمانڈر تک فوراً پہنچتے ہیں۔ جنرل کیانی نے جو بھی کہا وہ اپنے افسروں اور جوانوں کے جذبات کی ترجمانی میں کہا۔ اسے عدلیہ اور فوج کی لڑائی میں تبدیل کرنا نہایت احمقانہ اور سازشی اقدام ہو گا۔ وزیراعظم نے سچ کہا ہے کہ ہم نے تنکا تنکا جمع کر کے جمہوریت کا یہ گھونسلہ بنایا ہے۔ بڑی تکلیف دہ بات ہو گی اگر ہمارا طاقتور میڈیا ہی اسے گرا دے۔
فوج کوئی مقدس گائے نہیں لیکن فوج پر دشمن کی زبان میں تنقید بھی قابل برداشت نہیں اور اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ فوج سے زیادہ اپنے دشمن کی پہچان اور کسی کو نہیں ہوتی وہ پیشہ ور ہوتے ہیں۔ جنہیں لڑنا مرنا سکھایا جاتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث مبارکہ سب سے پہلے پڑھائی جاتی ہے۔
’’ اپنے آپ کو جانو، اپنے دشمن کو پہچانو‘‘
read more →

One Sided Picture

ایم کیو ایم (امریکہ) کے سنٹرل آرگنائزر جنید فہمی نے اقوام متحدہ میں ایک میمو رنڈم فائل کیا ہے جس میں شکایت کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کراچی میں نئی حلقہ بندیاں کر کے ایم کیو ایم کے ووٹ کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہا ہے موصوف نے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ایم کیو ایم کے ساتھ زیادتی قرار دیا ہے۔
یوں تو ایم کیو ایم کے پاس اپنے ہر غیر آئینی، غیر انسانی اور غیر قانونی کام کے لیے شاندار جواز موجود ہوتا ہے اور وہ اپنے کسی بھی ایکشن کے خلاف جو دلیل پیش کریں اس کے بعد بضد بھی ہوتے ہیں کہ اسے من و عن صحیح تصور کیا جائے کیونکہ ان سے کسی غلط فیصلے یا عمل کی توقع ہی نہیں کی جا سکتی۔ الطاف بھائی کی بھارت میں تقریر اور ان کے دہری شہریت کے مسئلے پر قائداعظمؒ کے حوالے سے ہونے والے مباحث اس کی مثال ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بقول شیخ رشید قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لسی پی ہوئی ہے اور وہ بعض انتہائی حساس معاملات پر بھی ’’درگزر‘‘ کی عجیب و غریب پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ اس لیے جس کا جو چاہے وہ کہتا رہے پاکستان میں کہے، بنگلہ دیش میں کہے یا لندن میں پاکستان کا سیاپا کرے۔ میڈیا کو گرما گرم خبر چاہیے خواہ کسی بھی قیمت پر حاصل ہو۔ پاکستان کی سالمیت کے خلاف جس کا جو چاہے ہذیان بکتا رہے ہمارے اینکر صاحبان کو اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ مادر پدر آزاد میڈیا پالیسی کیا رنگ لائے گی۔ یا تو پاکستان کی تاریخ ہمیں دوبارہ لکھنی پڑے گی یا پھر اس نظریے کو (خاکم بدھن) باطل قرار دینا پڑے گا۔ جس کی بنیاد پر پاکستان قائم ہوا تھا اور پاکستان کی نئی بنیادیں کھودنا ہوں گی۔
جن لوگوں کو میری طرح ماضی بعید میں بھارتی عقوبت خانوں میں رہنے کا اتفاق ہوا وہ ایک مخصوص ٹرمنالوجی ’’بارہ پتھر‘‘ سے آگاہ ہوں گے۔ میں نے بھارت کی مثال اس لیے دی کہ ہمارے جدید دانشور اٹھتے بیٹھتے اس ہی کی قوالی کرتے رہتے ہیں اس ’’بارہ پتھر‘‘ کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ’’بھارت ماتا‘‘ کے خلاف غداری کرنے والے کسی بھی ملزم یا مجرم کی کم از کم تین نسلوں کا سوشل بائیکاٹ کیا جاتا تھا۔ انہیں کسی بھی صورت سرکاری نوکری نہیں دی جاتی تھی۔ بھارت کی ہر جیل کے باہر جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے ’’نفرت اپرادہ (جرم) سے کرو۔ اپرادھی (مجرم) سے نہیں۔‘‘ لیکن اپنے ملک کے خلاف ہونے والی کسی بھی سازش بغاوت، جاسوسی وغیرہ میں ملوث کسی بھی شخص کو بھارتی سیکولر اور آزاد خیال معاشرہ معاف نہیں کرتا۔ عموماً ایسے لوگ اپنے جرم کی سزا بھگتنے کے بعد اپنے گھر نہیں جاتے اپنا ٹھکانہ بدل کر کسی دور دراز سٹیٹ میں گمنامی کی زندگی اپنے ماضی سے کٹ کر گزارتے ہیں۔
ہمارے ہاں الا ماشاء اللہ پاکستان کی سالمیت کے خلاف دن رات ہذیان بکنے والوں کو، بلوچستان کو آزاد ملک بنانے والوں کو پاکستان کے دفاعی اداروں کی بھد اڑانے والوں کو (اس کے لیے بڑا عجیب جواز تلاش کرتے ہیں کہ ہم ادارے کو نہیں شخصیت کو نشانہ بنا رہے تھے۔ سبحان اللہ) خصوصاً الیکٹرونک میڈیا سر آنکھوں پر بیٹھاتا ہے۔ چند روز پہلے لندن میں ’’پاکستانی فوج کے مظالم کی دہائی دینے اور بلوچستان کو پاکستان کی قید سے آزاد کروانے‘‘ کے نعرے لگانے والے حیر بیار کے انٹرویوز براہ راست لندن میں اس کے عشرت کدے سے براہ راست نشر کرنے کا ہمارے کچھ چینلز کے درمیان باقاعدہ مقابلہ چل رہا تھا۔
اب مینگل صاحب خدا خدا کر کے ’’نیم بروں نیم دروں‘‘ اگر انتخابی عمل کا حصہ بننے پر راضی ہی ہوئے ہیں۔ تو ان کی فرمائشوں کی فہرست طویل ہوتی جا رہی ہے۔ انہیں ’’یورپی غیر جانبدار‘‘ میڈیا بھی بلوچستان میں درکار ہے، باغیوں کے خلاف فوج کی کارروائی بھی بند ہونی چاہیے جبکہ انہوں نے ایک روز یہ بیان دے کر کہا کہ ’’پہاڑوں پر موجود دوستوں سے کہہ دیا ہے کہ یہ مسئلے کا حل نہیں۔‘‘ اگلے ہی روز اپنا بیان واپس لیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’میں نے نوجوانوں کو ہتھیار ڈالنے یا پہاڑوں سے اترنے کے لیے نہیں کہا۔۔۔‘‘ حیرت ہے اس کے باوجود ہم ’’جمہوریت‘‘ کا راگ الاپ رہے ہیں۔ کون سا ایسا پنجابی لیڈر ہے جس نے کوئٹہ کراچی جا کر ہمارے ان بلوچ سرداروں کی منت سماجت نہیں کی کہ وہ ہتھیار بند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی نہ کریں لیکن کسی کو اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ اگر ان کے ہاتھ سے یہ’’ کارڈ‘‘ بھی پھسل گیا تو دوبئی لندن اور دیگر یورپی ممالک میں ان کے محلات کیسے آباد رہیں گے؟
جس کا جی چاہے یورپی کمیشن کو آواز دے، جس کا جی چاہے یو این او کی فوج کو بلاتا پھرے اور ہم ڈنڈا لے کر سینکڑوں بے گناہوں کے قاتل انسان نما درندے دہشت گردوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ اول تو وہ قابو ہی نہیں آتے اگر آجائیں تو کسی کو ان کے خلاف گواہی کا حوصلہ نہیں ہوتا، ظاہر ہے قانون تو اندھا ہے اسے گواہیاں نہیں ملیں گی تو وہ دہشت گردوں کو سزا کیسے دے؟ لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ جن کے پیاروں کی گردنیں کاٹ کر یہ دہشت گرد پھینکتے ہیں وہ بھی انسان ہیں۔ وہ بھی قانون کی طرح اندھے ہو سکتے ہیں۔ پانچ سال تک ملک کو ’’حلوائی کی دکان اور نانا جی کی فاتحہ‘‘ سمجھ کر چلانے والی حکومت کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ اس سلسلے میں کوئی واضع قانون سازی کر سکتے؟ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
وہ ایم کیو ایم جو حکومت کا پانچ سال دھڑلے سے حصہ رہی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان جس شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے اس کو بنانے میں ایم کیو ایم کا حصہ بقدر حبثہ کل کی بات ہے۔ آج اس ایم کیو ایم نے یو این او کو پاکستان میں الیکشن کمیشن کے مظالم کی دہائی دینا شروع کر دی محض اس لیے کہ کراچی میں موجود دیگر تمام جماعتیں (سوائے پیپلز پارٹی وہ بھی مصلحتاً ) عدالت میں یہ ثابت کر چکی ہیں کہ یہ حلقہ بندیاں دھونس دھاندلی اور بے ایمانی سے بنائی گئیں اور یہاں لاکھوں کی تعداد میں میں جعلی ووٹوں کا اندراج ہوا وغیرہ وغیرہ۔ اس میں الیکشن کمیشن کا کیا گناہ؟ فخرو بھائی تو روز اول سے بے پناہ شرافت کا نمونہ بنے ہوئے یہ کہتے آرہے ہیں کہ وہ حلقہ بندیوں کے حق میں نہیں؟
کیا پیپلز پارٹی کی طرح ایم کیو ایم بھی صرف ان عدالتی فیصلوں کو صحیح مانتی ہے جو اس کے حق میں، اس کی مرضی کے مطابق ہوں؟ جو جماعت، افراد ، ادارے، انپے ملک کی عدلیہ، فوج کیخلاف غیر ممالک اور یو این او میں فریادی بن کر جاتے ہیں کیا وہ پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کو چیلنج نہیں کر رہے؟ پاکستان کا آئین اس سلسلے میں کچھ نہیں کہتا؟ اگر کہتا ہے تو اس پر عمل کون کروائے گا؟ کیا دیگر بہت سے معاملات پر ’’سوموٹو‘‘ لینے والی ہماری محترم عدالتیں اس مسئلے پر خاموش رہیں گی؟ کیا وقت نہیں آگیا کہ ہم اپنی آزادی رائے کی حدود کا تعین کر لیں؟ شرم کی بات ہے کہ ملک کی اقلیت ہمارے مسیحی بھائیوں کے گھر جلا دیے گئے انہوں نے ہر سطح پر احتجاج کیا لیکن کسی بین الاقوامی ادارے کو اپنا ’’ماموں جان‘‘ نہیں بنایا اور دوسری طرف!
ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے
read more →

8th D-8 Conference

نومبر 2012ء یعنی 7محرم کو 8ترقی پذیر ممالک کی سربراہ کانفرنس کا انعقاد برمحل نہ تھا کیوں کہ بیشتر مسلم آبادی حضرت حسینؓ اور شہدائے کربلا کی یاد میں محو رہتی ہے، اس لیے دیگر تقاریب اور جشن منانے سے اجتناب کرتی ہے۔ منجملہ اور اسباب کے یہ خاص وجہ تھی کہ پاکستان کے عوام نے اس تقریب پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اس تنظیم کو بنے 15سال ہونے کو آئے ہیں اور اسلام آباد کانفرنس و شمار کرتے ہوئے اس دورانیے میں صرف آٹھ سربراہ اجلاس منعقد ہوئے لیکن نہ تو رکن ممالک نائیجریا، مصر، ترکی، ایران، پاکستان، بنگلہ دیش، ملائیشیا اور انڈونیشیا میں تجارت یا سرمایہ کاری میں کوئی خاطر خواہ اضافہ ہوا، جس سے مطلوبہ خوشحالی کا دور دورہ ہوتا، البتہ پاکستان میں غربت میں اضافہ ضرور ہوا، جو تیزی سے جاری ہے جبکہ سرمایہ کاری میں تشویشناک حد تک کمی واقع ہوئی، بلکہ رہا سہا سرمایہ بھی فرار ہو رہا ہے اور دبئی، بنگلہ دیش، ملائیشیا میں لگایا جا رہا ہے، جس کا فائدہ اس تنظیم کے ان ملکوں کو تو ضرور ہوا لیکن پاکستان خسارے میں ہی رہا۔ 22نومبر کو اعلان اسلام آباد اور ڈی ایٹ کے مستقبل کی تصویر دل کے بہلانے کو کافی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس تنظیم کی بعض رکن حکومتوں میں اسلام آباد کی کانفرنس میں شرکت کے لئے گرم جوشی نہیں تھی۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے تو پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی سے ، جو انہیں مدعو کرنے ڈھاکے گئی تھیں، اپنی شرکت کو 71ء میں بنگلہ دیش میں پاکستان کی فوجی کارروائی پر باضابطہ معافی سے مشروط کر دی تھی اور قسم کھانے کے لیے اپنے مشیر گوہر رضوی کو اسلام آباد بھیج دیا تھا، جبکہ ملائیشیا کے وزیراعظم نے شرکت سے معذوری کا اظہار کیا تھا لیکن اپنے نائب وزیراعظم کو نامزید کر دیا، جنہوں نے شرکت کی۔ اسی طرح مصر کے صدر محمد مرسی بھی حماس اور اسرائیل میں جنگ بندی کرانے میں ایسے الجھے ہوئے تھے کہ وعدہ کرنے کے باوجود نہیں آسکے اور اپنے نائب صدر کو کانفرنس کے لیے نامزید کر دیا۔ تاہم ترکی کے وزیراعظم طیب اردوان اور ایران کے صدر احمدی نژاد نے کانفرنس میں نمایاں کردار ادا کیا اور غیر حاضر سربراہان ریاست کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ انڈونیشیا اورنائیجریا کے سربراہان نے بھی کانفرنس میں بھرپور شرکت کی۔
ایک بات ذہن میں ہمیشہ کھٹکتی رہی ہے کہ آخر ڈی ایٹ میں سعودی عرب کو کیوں نہیں شامل کیا گیا، جو اپنے وافر وسائل، سرمایہ اور تیل کی دولت کے باعث رکن ممالک کا اچھا تجارتی شراکت دار ہو سکتا تھا۔ اور ان کی توانائی کے بحران کو دور کرنے میں انتہائی موثر کردار ادا کر سکتا تھا۔ کیا ایسے اہم ملک کو اس لیے نظر انداز کیا گیا کہ D-8 نے ’’خوشحالی اور اقتصادی ترقی‘‘ کو مغربی طرز کی ’’جمہوریت‘‘ سے وابستہ کر رکھا ہے، جو رکن ممالک میں دو عشرے پہلے بحال ہوئی تھی، اگر ایسا ہے تو کانفرنس میں پر امن بقائے باہمی پر کیوں زور دیا گیا، کیونکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ریاستوں کو بلالحاظ سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی نظام آپس میں تعاون کرنا چاہیے لیکن ڈی۔ایٹ کے اعلامیے میں رکن ریاستوں کے سربراہوں نے ’’امن، جمہوریت، ترقی، مذاکرات، یکجہتی، رواداری اور اعتدال‘‘ (روشن خیال) جیسی بنیاد اقدار کے بارے میں تجدید عہد کیا جو عوام کی خوشحالی، فلاح اور باہمی اقتصادی تعاون کے لیے ناگزیر ہیں۔
سعودی عرب اورعوامی جمہوریہ چین ان معنوں میں جمہوریتیں ہیں، نہ ہی ان دونوں نظریاتی ریاستوں میں بالترتیب اسلام اور اشتراکیت مخالف عناصر کو حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے کی اجازت ہے تو کیا ان ممالک میں عوام خوشحال نہیں ہیں اور کیا یہ دونوں ریاستیں دوسری ریاستوں سے اقتصادی اور سیاسی تعاون نہیں کرتیں؟ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے موثر کردار ادا نہیں کرتیں؟ پھر ڈی۔ایٹ جیسی تنظیم جس کا مقصد تجارت اورسرمایہ کاری ہے، امریکی پروپیگنڈے کی آلہ کار کیوں بن گئی ہے؟ کیا اقتصادی تعاون صرف ’’جمہوری‘‘ ممالک کے مابین ہی ممکن ہے؟ یہی نہیں اعلان میں انتہا پسندی کا سد باب بھی ان کے فرائض میں شامل کر دیا گیا ہے تاکہ باقی ماندہ سات ریاستوں کو بھی پاکستان کی طرح امریکہ کی جنگ میں جھونک دیا جائے اور ان کا امن و امان بھی غارت کر دیا جائے۔
read more →

5th February Lesson. Tariq Ismail Sagar

بھارت جو بھی کہتا پھرے، اس کے حواری جو بھی راگ الاپیں، پاکستان کے ’’صلح پسند‘‘ حکمران جو بھی کہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کشمیریوں نے بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں۔ ظلم و ستم اور قہروجبر کی رات خواہ جتنی بھی طویل ہو، آخر کار وہ کٹ کر اور ایک ایسے اجالے میں تبدیل ہو کر رہتی ہے جو ظالم و جابر کے چہرے سے نقاب نوچ کر رکھ دے۔ کیا کشمیر کی جنت نظیر وادی میں بھی اس اجالے کا وقت ہوا چاہتا ہے، جو 65 سال پر محیط بھارتی سامراج کے ظلم و ستم کی گھور رات کا سینہ شق کر دے؟ حالات و واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ مرحلہ اب قریب دکھائی دیتا ہے۔ کشمیر کی تحریک آزادی کی باگ ڈور اب مظلوم قوم کی جس نسل کے ہاتھ میں آچکی ہے، اس کے ماتھے پر عزم و ہمت کا جو نشان ثبت ہے وہ اس بات کی وضاحت کیے دیتا ہے کہ وادی میں آزادی کی صبح کا طلوع اب نوشتہ دیوار ہے۔ یوں تو غیور کشمیری قوم کی واضح اکثریت نے ان 65 سالوں میں
ایک دن کے لئے بھی بھارت کی مسلط کردہ غلامی قبول نہیں کی اور اس کے خلاف اپنے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد تسلسل کے ساتھ جاری رکھی۔ 2010ء میں شوپیاں نامی قصبے میں درندہ صفت بھارتی فوجی اہلکاروں کے ہاتھوں ایک عفت مآب بہن کی مظلومانہ شہادت کے واقعے نے پوری وادی کو جس طرح انتقام کا شعلہ جوالہ بنا دیا، اس کی لپک ہے کہ مسلسل بھارتی تسلط کو گھیر رہی ہے۔ سانحہ شوپیاں کے بعد بھارتی جبر کے خلاف غم و غصے کے اظہار کا جو سلسلہ چل نکلا وہ مختلف شکلوں میں جاری رہتے ہوئے آج اپنے جوبن پر ہے اور اب یہ ایک معمول بن گیا ہے کہ پرامن احتجاج کو روکنے کے لئے جونہی قابض اور کٹھ پتلی انتظامیہ کوئی حماقت کر بیٹھتی ہیں اس کا رد عمل اندازوں سے کہیں بڑھ کر شدید ہوتا ہے۔ پے در پے ہونے والے ان مظاہروں نے تحریک آزادی کشمیر کو وہ توانائی بخشی ہے کہ اب اسے کسی قیادت کی ضرورت بھی باقی نہیں رہی۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے وادی میں ابلاغ کے تمام ذرائع آزاد اخبارات و چینلوں اور انٹرنیٹ سے لے کر ایس ایم ایس تک پر پابندی کے باوجود وادی کے کسی بھی حصے میں جونہی بھارتی مظالم کا ہلکا سا بھی مظاہرہ سامنے آتا ہے، اس کی خبر میکانکی انداز میں آناً فاناً پوری وادی میں پھیل جاتی ہے اور پھر ہر عمر کے کشمیری باشندے آتش بجاں ہو کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ آئے روز کے ان احتجاجی مظاہروں نے کٹھ پتلی انتظامیہ کو بے بس کر کے رکھ دیا ہے۔ جس سے ہر آنے والے دن کشمیر پر بھارتی تسلط کی گرفت ڈھیلی پڑتی جا رہی ہے۔ گزشتہ دنوں حریت پسند رہنما یاسر ملک کے گھر کے سامنے کھیلتے ہوئے بچوں پر ظالم فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 11 سالہ لڑکے کی شہادت کے المناک واقعے نے بھی چنگاری کو ہوا دینے کا ایسا ہی کام سرانجام دیا اور خبر پھیلتے ہی کشمیری عوام کرفیو توڑتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا۔ یہ سلسلہ تب سے آج تک جاری و ساری ہے گو کہ ہم نے اب ان خبروں پر توجہ دینا چھوڑ دی ہے لیکن کشمیریوں نے اپنی جدوجہد میں کسی کمزوری کو مظاہرہ نہیں کیا۔
حریت کانفرنس کی اس تحریک کو اگر 1946ء کی اس تحریک کے پس منظر میں دیکھا جائے جو ہندوستان کے باشندوں نے برطانوی استعمار کے خلاف ’’ہندوستان چھوڑ دو‘‘ کے زیر عنوان چلائی تھی، تو نیک شگون کے طور پر یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ کشمیریوں کی تحریک بھی برطانوی استعمار کی طرح بھارتی سامراج کو بھی خطہ جنت نظیر سے اپنا بوریا بستر گول کرنے پر انشاء اللہ مجبور کر دے گی۔ کم از کم بھارت کی حکمران کانگریس پارٹی کو تو اس کا احساس ہونا چاہیے کہ انگریز استعمار کے خلاف اس تحریک کی قیادت اس کے ہاتھ میں تھی۔ ’’کشمیر چھوڑ دو‘‘ تحریک سے متعلق یہ نیک شگون محض خوش فہمی پر مبنی نہیں، بلکہ زمینی حقائق بھی اس کی بھرپور موافقت کرتے ہیں۔ بھارت کی وہ قیادت جس کی سوئی 65 سال سے ’’اٹوٹ انگ‘‘ پر اٹکی چلی آ رہی تھی اور کشمیریوں کو کسی طرح حق خودارادیت دینے کے بارے میں سوچنے تک کی روادار نہیں تھی، آج اس کی زبان پر مذاکرات کی باتیں ہیں اور بھارتی قیادت ظلم و ستم کا ہر حربہ آزمانے کے بعد اب حریت قیادت کو پٹانے کے گر آزمانے پر مجبور ہو گئی ہے۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پہلی مرتبہ کسی ’’وزیراعظم ہند‘‘ نے کشمیریوں پر ہاتھ ہلکا رکھنے کی بات کی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ظالم اب تھک چکا ہے، ظلم وجور کے حربے آزما آزما اس کے ہاتھ شل ہو چکے ہیں مگر شاید اب وقت بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ کشمیری اپنی 65 سالہ تحریک کے اس اہم مرحلے سے پیچھے ہٹنے کو کسی طرح تیار نہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر کی موجودہ تحریک جو حالات و واقعات کی روشنی میں فیصلہ کن موڑ پر نظر آ رہی ہے، پاکستان سمیت کسی کی بھی بیرونی مدد کی مرہون نہیں۔ یہ تحریک مکمل طور پر فرزندان زمین کی شروع کردہ ہے، اس کا کریڈٹ کوئی دوسرا نہیں لے سکتا۔ یہ تحریک شروع ہی ایسے وقت اور ماحول میں ہوئی ہے جب کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کا ’’احسان‘‘ کرنے والا پاکستان امریکی احکام پر مکمل طور پر ان سے منہ موڑے ہوئے ہے، جبکہ حکومت کی متابعت میں پاکستان کا میڈیا بھی تحریک آزادی کشمیر، کشمیر میں روا رکھے جانے والے بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کے واقعات سے آنکھیں پھیرے ہوئے ہے۔ یہ صورت حال پاکستان اور پاکستانی قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ نصف صدی کشمیریوں کی وکالت کرنے کے باوجود جب مقدمہ جیتنے کی نوبت قریب نظر آ رہی ہے، اس کا ’’وکیل‘‘ کہاں کھڑا ہے۔ کیا کشمیری اسے بھلا پائیں گے؟ شاید کبھی نہیں۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ 65 سال سے ہم جس مقصد کے لئے قربانیاں دیتے آ رہے ہیں جس مسئلے پر ہم نے آدھی دنیا کو اپنا دشمن بنا رکھا ہے۔ بھارت سے کئی جنگیں لڑ چکیں ہیں آج ہم اس مسئلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ ہماری نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔ جس کا اب ہم واقعی حصہ بن چکے ہیں۔
پاکستان کو اب تک دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں کئی کھرب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ اس ملک کو احباب پاکستان سے خاطر خواہ امداد تو ملنا درکنار خود امریکہ بھی جس کی خاطر افواج پاکستان اس جنگ میں جان کی بازی لگا رہی ہیں پاکستان کو ہونے والے اس بھاری نقصان کی جس نے اس کی حقیقت کو کھوکھلا کر دیا ہے کوئی پرواہ نہیں۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 2004-05ء تک 2 کھرب 59 ارب 10 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا تھا جو 2008-09ء میں بڑھ کر 6 کھرب 77 ارب 79 کروڑ روپے ہو گیا۔ اس جنگ میں ہونے والا براہ راست نقصان ایک کھرب 14 ارب 3 کروڑ روپے تک جا پہنچا ہے جب کہ بالواسطہ نقصانات جو پاکستان کو برآمدات، غیر ملکی سرمایہ کاری، نجکاری، صنعتی پیدوار، محصولات وغیرہ کی مد میں اٹھانے پڑے 2008-09ء میں 5 کھرب 63 ارب 76 کروڑ روپے تک جا پہنچے۔ یہ اعدادوشمار پووزٹی ریڈکشن اسٹریٹجی پیپر ii (پی ایس پی ii) تیار کردہ فنانس ڈویژن پاکستان سے اخذ کردہ ہیں۔
اس جنگ پر آنے والی یہ لاگت حالیہ برسوں کے دوران ملک میں غربت میں اضافے کا ایک بڑا سبب ہے۔ انسداد دہشت گردی مہم میں پاکستان کی شرکت، متاثرہ خطے میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا سبب بنی ہے۔ مسلسل بم دھماکوں، امن و امان کی ابتر صورتحال، مقامی آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے ملک کے سماجی اقتصادی تانے بانے ادھیڑ کر رکھ دیئے ہیں۔ امن و امان کی صورتحال کے ساتھ ساتھ ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی نے ملکی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کسی اہم سرمایہ کاری سے گریزاں کر دیا ہے۔اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے جو پورے ملک پر مسلط ہے۔ ایک اسٹریٹجک پالیسی وضع کر رہی ہے۔ پھر بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ نے ملکی معیشت کو جس بری طرح مفلوج کیا ہے اس کے تدارک کے لئے کئی سال درکار ہوں گے۔ دیگر اسباب و عوامل بھی پاکستان کی حالیہ معاشی مشکلات کے ذمہ دار ہیں ان میں آمدنی سے زائد اخراجات، برآمدات سے زائد درآمدات اور ناکافی سماجی خدمات شامل ہیں جن کے ذریعے غریبوں کی مالی حالت کو بہتر بنا کر انہیں ملک کے معاشی استحکام اور خوشحالی کی جدوجہد میں شریک کیا جا سکتا ہے۔
پی آر ایس پی ii میں جو فنانس ڈویژن کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو پیش کی گئی کہا گیا ہے ’’میکرو اکنامک کے غیر مستحکم ہونے کے حالیہ اسباب میں ملک میں امن و امان کی صورتحال، خوراک اور اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اچانک اضافہ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام اور سب سے بڑھ کر دہشت گردی سے جنگ میں پاکستان کے ایک فرنٹ لائن ملک ہونے کے باعث اسے پہنچنے والے براہ راست اور بالواسطہ نقصانات شامل ہیں ان مسائل کے باعث ملک کو اس وقت انتہائی اہم چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں بڑھتا ہوا مالی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، شرح نمو کی ابتری اور کم ہوتے ہوئے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر شامل ہیں۔حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ پاکستان کی ترقی میں ایک اہم رکاوٹ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کا کردار ہے ملک کو انسداد دہشت گردی کی مہم میں شراکت دار بننے کے باعث بھاری سماجی اور اقتصادی نقصانات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔ انسداد دہشت گردی مہم جو امریکہ میں 2001ء میں نائن الیون کے واقعے کے بعد شروع ہوئی پاکستان کے بجٹ پر بھاری بوجھ بن گئی ہے کیونکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے بجٹ میں زیادہ رقوم مختص کرنی پڑیں جس کے باعث پورے پاکستان بالخصوص فاٹا اور خیبر پختونخوا کے لئے ترقیاتی وسائل میں کمی کرنی پڑی۔ علاوہ ازیں انسانی مصائب و مشکلات اور لوگوں کی نقل مکانی اور دوبارہ بحالی پر بھی بھاری رقم خرچ ہو رہی ہے۔بہت سے ترقیاتی پروجیکٹس جو پہلے متاثرہ علاقوں میں شروع کیے گئے تھے تاخیر کا شکار ہیں اور اس کے نتیجے ان پر آنے والے لاگت میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ انسداد دہشت گردی مہم کے آغاز کے وقت سے ہی ہر طرف ایک بے یقینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں ملکی معاشی سرگرمیوں میں سست رفتاری آگئی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے احتراز کر رہے ہیں خدشہ ہے کہ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری پر جس میں کئی برسوں سے اضافہ ہو رہا تھا فاٹا اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں جاری انسداد دہشت گردی مہم پر مخالف اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے علاوہ ملک کو درپیش خطرات میں بھی اضافہ ہو گا جس کے باعث مارکیٹ سے قرضوں کے حصول پر زیادہ اخراجات ہوں گے۔
قیام پاکستان پر قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ ہماری ناقص پالیسیوں ، بدعنوانیوں اور وطن فروشی کی وجہ سے اس شہ رگ پر براہمن سامراج نے جو خونی پنجے گاڑے تھے ان میں روز بروز مضبوطی آتی جا رہی ہے۔ ہمارے دریا خشک ہو رہے ہیں عوام کو ذہنی مریض بنایا جا رہا ہے جس کی واحد وجہ پاکستان کے اساسی نظریات سے رو گردانی ہے۔ کشمیر تو بہرحال آزاد ہو گا یہ الگ بات کہ اس آزادی کی قیمت کتنی چکانی پڑتی ہے 5فروری کا پاکستانیوں کو یہ پیغام ہے کہ اپنے ان عاقبت اندیش حکمرانوں سے باخبر رہیں جو ان کی 65سالہ قربانیوں پر مٹی ڈال کر انہیں دفن کرنے پر تلے ہیں۔
read more →