Showing posts with label 01/12/2012. Show all posts

Tomorrow Part (2)

انسانیت کے اجتماعی ضمیر کا قتل کرتے ہوئے بھارتی حکومت نے بالآخر افضل گوروکو قتل کر دیا اور قتل کرنے کے بعد اس کا جسد خاکی اس کے پیاروں کے حوالے کرنے کے بجائے اسے تہاڑ جیل ہی میں دبا دیا۔ جہاں پہلے ہی بقول بھارتی حکومت مقبول بٹ شہید کو بھی دفن کیا گیا تھا۔ مقبول بٹ کو فروری 1984ء میں اسی انداز میں چوروں کی طرح پھانسی دے کر اس کا جسد خاکی بھی اس کے پیاروں کے حوالے نہیں کیا گیا۔ اسے بھی اسی طرح تہاڑ جیل میں دبا دیا گیا۔ دونوں مرتبہ بھارتی حکومت نے ایک جیسا بیان جاری کیا یعنی دونوں کو دفن کیا گیا ہے لیکن اس بات کا ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ملا۔
افضل گورو کو قتل کر نے سے دس گھنٹے پہلے بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا دیا تھا جو تادم تحریر جاری ہے۔ عورتیں، بچے، مرد، بزرگ سب کو بھوکے پیاسے گھروں میں بند کر دیا گیا ہے۔ شیر خوار بچوں کو دودھ سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ جب کشمیری احتجاج کے لیے باہر نکلتے ہیں ان پر گولیوں کا مینہ برسایا جاتا ہے۔ گیارہ فروری کی اطلاعات کے مطابق تیس بے گناہ کشمیری دوران احتجاج قابض بھارتی فوج نے مار ڈالے۔ درجنوں زخمی ہیں۔ جنہیں ہسپتال لے جانے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ عملاً بھارتی حکومت نے اسرائیل کی مکمل نقل کرتے ہوئے جس طرح صہیونیوں نے غزہ کے مسلمانوں پر زندگی کے تمام دروازے بند کر دیے ہیں بالکل وہی انداز اور ظالمانہ ہتھکنڈے یہاں بھی آزمائے جا رہے ہیں اور عالمی ضمیر منہ میں گھنگھنیاں ڈالے یہ سارے مناظر تماشے کے انداز میں دیکھ رہا ہے۔
افضل گورو کے اس جیوڈیشل مرڈر پر بھارت کے باضمیر صحافی اور انسانیت دوست بھی سراپا احتجاج ہیں۔ افضل گورو کے قتل سے پہلے ہی ان کی طرف سے خاصا واویلا مچایا گیا لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے بھارتی حکومت نے خصوصاً اس مسئلے پر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں اور یہ سارا خونی ڈرامہ امریکہ کو اعتماد میں لینے کے بعد ہی رچایا گیا ہے ورنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ جس شخص کو بھارت کی اعلیٰ عدالت متعلقہ جرم میں بے گناہ قرار دے چکی ہو اور اس کے فیصلے میں یہ لکھا گیا ہو کہ وہ حملہ آوروں میں شامل نہیں تھا۔ پانچ حملہ آور جنہوں نے بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کیا وہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں مارے گئے تھے۔ افضل گورو کو سری نگر سے اس حالت میں گرفتار کیا گیا کہ وہ شدید بیمار اور کئی روز سے بستر علالت پر تھا۔ بھارت کی تمام ہیومن رائٹس تنظیموں کا یہی احتجاج تھا کہ جب ایک شخص جرم کا براہ راست ذمہ دار ہی نہیں صرف اس شک کو بنیاد بنا کر وہ اس میں ملوث ہو سکتا ہے۔ اسے سزائے موت دینا کہاں کا انصاف تھا۔ جہاں انصاف کے چانکیائی پیمانے ہوں وہاں ایسا ہی انصاف ملتا ہے۔
عینی شاہد بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر افضل گورو کو پھانسی کی اطلاع چند گھنٹے پہلے دی گئی تھی جس پر انہوں نے انتہائی صبر اور ضبط کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے غسل کیا۔ نماز ادا کی۔ چائے کے چند گھونٹ پیئے اورقرآنی آیات کا ورد کرتے تختہ دار کی طرف چل دیے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ان کے چہرے پر دور دور تک خوف کا شائبہ تک نہیں تھا اور وہ معمول کے مطابق مسکرا رہے تھے۔ افسوس ظالموں نے ان کی بیوی بچوں کو ان کے جسد خاکی کا دیدار بھی نہیں کرنے دیا۔
افضل گورو کی شہادت کی خبر پھیلتے ہی سارا کشمیر سراپا احتجاج ہے۔ دلی میں کشمیری طلباء نے احتجاج کیا اور پرامن طور پر جب جمع ہوئے تو پولیس کی سربراہی میں آر۔ایس۔ ایس کے غنڈوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ ان پر بری طرح تشدد کیا۔ خواتین کے کپڑے پھاڑ ڈالے پولیس یہ سارا تماشا دیکھتی رہی۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا دیا گیا لیکن ماضی کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے کرفیو کشمیریوں کے راستے کی دیوار نہیں بنے۔ کشمیریوں نے جان لیا ہے کہ یہ لڑائی انہیں اکیلے ہی لڑنی ہے۔ آزادی کی یہ جنگ چوتھی نسل کو منتقل ہو رہی ہے اور بھارت اس خوش فہمی کا شکار ہے کہ ظلم و جبر سے اس تحریک کو دبا لے گا۔
افضل گورو کا تعلق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سے ہے جو مسلح جدوجہد پر یقین نہیں رکھتی لیکن 1984ء میں مقبول بٹ کو پھانسی لگنے کے بعد انہوں نے ہتھیار اٹھا لیے تھے۔ یہی یٰسین ملک جو آج کل فلسفہ عدم تشدد کے پرچارک ہیں نے بھی ان ہی دنوں میں بندوق اٹھائی تھی لیکن بعد میں انہوں نے بندوق رکھ دی اور خود کو احتجاج تک محدود کر لیا۔ افضل گورو کا تعلق اس جماعت سے ہے وہ غالباً 1988ء میں پاکستان آئے تھے لیکن بعد میں انہوں نے بھی بندوق رکھ کر سیاسی جدوجہد کا راستہ اپنایا۔ آج بھارتیوں نے ان کو بھی مقبول بٹ کی طرح مار ڈالا اس کے بعد اگر بھارتی حکومت اس بات پر شاکی ہو کہ کشمیری نوجوانوں نے اسلحہ اٹھا لیا ہے اور پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دے تو اس سے زیادہ احمقانہ بات اور کیا ہو گی؟
حریت کانفرنس کے قیام کے بعد سے جس کے قیام کا مقصد سیاسی جدوجہد کے ذریعے کشمیر کی آزادی کا حصول ہے، بھارتی حکومت کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی اختیار کرتی اور اپنے پنڈت جی جواہر لال نہرو کی اس قرار داد کے لیے جو انہوں نے خود یو این او میں پیش کی تھی راہ ہموار کرتی۔ عین ممکن ہے سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے بھارتی حکومت کشمیر کی لیڈر شپ کے کچھ حصے کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو جاتی آخر شیخ عبد اللہ اور ان کا خانوادہ بھی کشمیری ہی ہے اور بہت سے ایسے نام ہیں جو بھارت کی غلامی میں ہی رہنا احسن جانتے ہیں لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے بھارتیوں کو بھی اس بات کا یقین ہے کہ یہی لوگ ان کے آستین کے سانپ بنیں گے اور وقت آنے پر یہ سب کشمیری آزادی پسندوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اگر ایسی بات نہیں تو ماضی قریب خصوصاً جب سے بھارت نے اپنی پانچ لاکھ فوج کشمیریوں پر چڑھائی ہے تب سے ہی کوئی ایک ایسی مثال نہیں ملتی جب بھارت کی مرکزی حکومت نے مقامی کشمیری کٹھ پتلی حکومت کو مکمل اختیارات کے ساتھ قبول کیا ہو۔ یہ الگ بات کہ احمقوں کی جنت میں رہنے والے یہ کانگریسی کشمیری آج بھی بھارتی حکومت سے خیر کی توقع رکھتے ہیں۔
بھارت کے اس بیہمانہ اقدام سے جلد یا بدیر مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی یہ تحریک ماضی کی طرح مسلح جدوجہد کا راستہ اختیارکر لے گی اور اس کی ذمہ داری صرف اور صرف بھارتی حکومت پر ہو گی جس نے اپنی آنکھوں پر تعصب اور تکبر کی پٹی باندھ رکھی ہے۔ کیونکہ نائن الیون کے بعد بدقسمتی سے پاکستان کو حقیقی قیادت نہیں مل سکی اور تب سے آج تک ہمارے ہاں وہی لوگ ایوان اقتدارمیں پہنچے ہیں جو کوئی نہ کوئی ’’معاہدہ‘‘ کر کے آتے ہیں جس میں غالباً سب سے اہم شق یہی ہے کہ آزادی کشمیر کے مسئلے پر گونگے بہرے بنے رہو بس کسی اہم موقع پر ایک آدھ بیان دے کر شلجموں سے مٹی جھاڑ لیا کرو۔ اس رویے نے تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ میں بد دلی پھیلا دی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ کشمیریوں کی آزادی کا حق ساری دنیا نے تسلیم کیا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے کسی بھی شہری کو آزاد کشمیر میں آنے سے روکنے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز موجود نہیں لیکن ہم محض امریکی خوشنودی میں شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفا دار بننے کے لیے ایسے اقدامات کررہے ہیں جن سے پاکستان کی سلامتی کو ہی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ جہاں تک تحریک آزادی کشمیر کا تعلق ہے یہ لڑائی اب چوتھی نسل کو منتقل ہو رہی ہے ان کی قربانیوں کی داستان لازوال ہے لیکن ابھی شاید وہ ’’جرم ضعیفی‘‘ کے سزا وار ہیں اور بدقسمتی سے صرف فتح کے دوست ہوتے ہیں جلد وہ بھی فاتح بنیں گے اور اپنا حق حاصل کر کے رہیں گے۔ اگر ظلم و ستم اور پھانسیوں سے یہ معاملہ رکنے والا ہوتا تو کب کا ختم ہو جاتا۔
read more →

US Evacuation and recent attacks

پشاور ایئر پورٹ پر حملے میں ذلت آمیز ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے تمام مذہبی اور اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بے گناہ پولیو ورکرز کے قتل عام کی جو مہم شروع کی ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ اس مجرمانہ مہم کا پس منظر کیا ہے؟ کیا حملہ آور یہ چاہتے ہیں کہ ہماری اگلی نسل میں پولیو جیسی خطرناک اور تباہ کن بیماری کے اثرات باقی رہیں یا اس پر بھی وہ کچھ مذہبی تحفظات رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے جن لوگوں نے خود کو عقل کل سمجھ کر مذہب کو بھی اپنی ذاتی ملکیت بنا لیا ہے ان کے بارے میں کچھ بھی کہا جا سکتا ہے لیکن دنیا کا کوئی مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ آپ دنیا میں آنے والے معصوم بچوں کی زندگیوں کے لیے بھی خطرات پیدا کر دیں۔
پشاور ایئر پورٹ پر حملے کے حوالے سے خیبر پختوانخواہ کے سینئر وزیر بشیر بلور کا یہ بیان محل نظر ہے کہ حملہ آوروں نے یہ حملہ فوج کی اصطلاح میں ’’ آل آؤٹ اٹیک‘‘ کی طرح کیا تھا۔ جس کو مختلف مراحل میں تقسیم کر کے یہ حکمت عملی اپنائی گئی تھی کہ سب سے پہلے ایک گروپ پشاور ایئر بیس پر کنٹرول حاصل کرے گا۔ جس کے ساتھ ہی دوسرا گروپ ٹی وی سٹیشن پر قبضہ کر لے گا جس کے بعد چھپے ہوئے حملہ آور مختلف اطراف سے حملہ کرتے ہوئے شہر میں داخل ہو جاتے۔ حملہ آوروں کی تعداد سینکڑوں میں بھی ہو سکتی تھی اور جو دہشت گرد اس حملے کے اگلے روز مارے گئے تھے وہ بھی انہی حملہ آوروں کی باقیات تھے۔ گو کہ معمول کے مطابق اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر اس مرتبہ کچھ نئے انکشافات بھی ہوئے ہیں۔ مرنے والے دہشت گردوں کی پشت پر کھدے ٹیٹوز کی شیطانی شبیہہ اور اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کا تعلق آذربائیجان اور داغستان سے ہے۔ اطلاعات کے مطابق جن دہشت گردوں کی حملے کے اگلے روز ایک زیر تعمیر مکان میں موجودگی کی اطلاع پولیس کو شہریوں نے دی تھی ان پر بھی شہریوں کو اس لیے شک ہوا کہ وہ شکل سے تو پٹھان لگتے تھے لیکن ایسی اجنبی زبان میں باتیں کر رہے تھے جو اس سے پہلے کسی نے نہیں سنی تھی۔ ایک چینل کی ٹیم جو اطلاع ملنے پر جائے وقوعہ کی طرف جا رہی تھی وہ بھی ان دہشت گردوں کے نرغے میں آگئی اور بمشکل جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔
سکیورٹی فورسز نے جرأت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے عزائم تو ناکام بنا دیے اور پشاور ایئر پورٹ کو سترہ گھنٹے بعد آپریشنل کر دیا لیکن تب سے اب تک خیبر پختوانخواہ میں دہشت گردوں نے ادھم مچا رکھا ہے اور تقریباً ہر روز کوئی نہ کوئی نئی واردات کررہے ہیں۔ جس میں راہ چلتے لوگوں پر دستی بم پھینکنا، پولیو ورکرز کا قتل جیسے گھناؤنے واقعات بھی شامل ہیں۔
ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے یہاں غیر ملکی دہشت گردوں کی نئی کھیپ آگئی ہے جسے دوسرے ممالک میں تربیت دے کر دہشت گردی کے لیے پاکستان میں لانچ کیا گیا ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ الزام دنیا پاکستان پر لگاتی ہے کہ یہاں سے دہشت گردی دنیا میں پھیلائی جا رہی ہے جبکہ زمینی سچائی یہ ہے کہ ساری دنیا کے دہشت گردوں نے مل کر پاکستان پر حملہ کر دیا ہے۔ یہ دہشت گرد کہاں سے سفر کرتے ہیں، کہاں پہنچتے ہیں اور کیسے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک سے آنے والا دہشت گرد براہ راست افغانستان میں داخل ہوتا ہے آج بھی افغانستان ان کے لیے محفوظ ترین پناہ گاہ ہے۔ جہاں ان کا استقبال کرنے کے بعد ان کی تربیت مکمل کر کے انہیں اسلحہ، گولہ بارود سے لیس کر کے پاکستان میں دھکیلا جاتا ہے۔ حیرت ہے افغانستان جہاں امریکہ نیٹو اور ایساف کی فوجیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اکٹھی کی گئی ہیں وہاں دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں۔ اس سلسلے کی اہم مثال مولوی فضل اللہ کی ہے۔
مولوی فضل اللہ کسی نہ کسی طرح سوات سے جان بچا کر نکلا تو اسے بھی مشرقی افغانستان (کنٹر) میں پناہ ملی۔ جہاں اسے محفوظ ٹھکانہ، عیش و آرام، اور ہر طرح کا تحفظ حاصل ہے۔ ملا فضل اللہ کی موجودگی کے حوالے سے پاکستان کئی مرتبہ اپنے تحفظات سے قابض افواج کو آگاہ کر چکا ہے۔ افغان حکومت کوباقاعدہ سفارتی سطح پر شکایت کی جا چکی ہے اور اس مرکز سے پاکستان پر حملے معمول بن چکے ہیں لیکن امریکہ، افغانستان، نیٹو نے اس ضمن میں پاکستان سے معذرت کر لی ہے۔ اندر کی بات یہ ہے کہ امریکن مولانا حقانی گروپ کے خلاف پاکستان آرمی کا ایکشن چاہتے ہیں جبکہ حقانی گروپ نے کبھی پاکستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کی نہ پاکستانی سکیورٹی کے لیے مسائل کھڑے کیے ہیں اور نہ ہی ان کا پاکستان میں کوئی ٹھکانہ ہے۔ وہ افغان شہری ہیں اور طالبان کے ساتھ مل کر افغانستان سے کارروائیاں کرتے ہیں۔ البتہ کچھ افغانوں کے بیوی بچے ضرور وزیرستان میں موجود ہیں جن کے خلاف کارروائی کا کوئی جواز نہیں بنتا لیکن امریکنوں نے پاکستان کو اس ’’گستاخی‘‘ کی سزا دینے کے لیے ملا فضل اللہ کی سرپرستی شروع کر دی ہے اور باور کیا جاتا ہے کہ جو غیر ملکی دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوتے ہیں وہ ان ہی مراکز پر تربیت اور اسلحہ حاصل کرنے کے بعد یہاں آتے ہیں اور انہیں اگر مکمل پشت پناہی نہیں تو کم از کم امریکنوں کی ’’نظر انداز کر دینے کی‘‘ پالیسی کا سامنا رہتا ہے۔ یہ لوگ جس راستے سے گزر کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں جس راستے سے واپس جاتے ہیں اس پر نیٹو اور امریکہ کا کنٹرول ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے امریکن افغانستان سے رخصتی سے پہلے اس خطے کی جغرافیائی اور زمینی سچائیوں کو بدلنے پر تلے ہیں۔ کیونکہ سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ افغانستان کے جہاں جہاد یا فساد اسے کوئی بھی نام دیا جائے، ہو رہا ہے اس میں پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکنوں کی براہ راست طالبان سے گفت و شنید اور سودے بازیاں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ اگر وہ پاکستان کو اس گفتگو کا حصہ نہیں بناتے۔ جہاں تک دہشت گردی کے دباؤ کا تعلق ہے تو یہ حربے اب پاکستان پر آزمائے نہیں جا سکتے کیونکہ عوام کو بھی برے بھلے کی تمیز ہونے لگی ہے۔
read more →